1
00:00:00,560 --> 00:00:05,000
ہڑپّہ فلمز کی پیشکش

2
00:00:05,960 --> 00:00:09,400
میسوپوٹیمیا، تہذیب کے
گہوارہ کے طور پر مشہور ہے۔

3
00:00:09,480 --> 00:00:13,040
لیکن اسی وقت جنوبی ایشیا میں ایک وسیع،
 زیادہ پراسرار سلطنت کا عروج ہوا،

4
00:00:13,120 --> 00:00:17,000
بالکل اسی طرح جیسے اہرام بنائے جا رہے تھے۔

5
00:00:17,080 --> 00:00:23,720
اس کا سب سے بڑا شہر ایک
صدی پہلے تک چھپا ہوا تھا۔

6
00:00:23,800 --> 00:00:29,920
آج اس کی میراث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان

7
00:00:30,120 --> 00:00:34,520
ہنگامہ خیز سرحد سے منقسم ہے۔

8
00:00:38,240 --> 00:00:43,320
موہن جودڑو: ایک قدیم وادئ سندھ کے شہر سے پردہ کشائ

9
00:01:01,400 --> 00:01:05,880
ستوپ ٹیلے پر کھدائی، موہن جودڑو

10
00:01:16,720 --> 00:01:20,320
  ۴۰۰۰ سال پرانے شہر موہن جودڑو کے کھنڈرات

11
00:01:20,440 --> 00:01:22,640
اپنے اردگرد کے علاقے پر ایک سحر طاری کر دیتے ہیں۔

12
00:01:24,160 --> 00:01:27,480
مقامی لوگ اس جگہ کے بارے میں کہانیاں
 سناتے ہیں، خواہ وہ سچی ہوں یا جھوٹی۔

13
00:01:29,160 --> 00:01:32,360
ان میں سے ایک سب سے سنسنی خیز کہانی ایک
قدیم حکمران کے بارے میں ہے۔

14
00:01:32,480 --> 00:01:35,560
1. کہانی

15
00:01:35,640 --> 00:01:37,600
موہن جودڑو کا ایک بادشاہ تھا۔

16
00:01:38,320 --> 00:01:41,920
وہ بہت ظالم تھا، بہت طاقتور تھا

17
00:01:42,120 --> 00:01:43,720
اور بہت شہوت پرست تھا۔ شیخ جاوید علی سندھی (سیاحتی رہنما)

18
00:01:43,800 --> 00:01:45,680
 جب  کبھی کسی کی شادی  ہوتی تھی،

19
00:01:47,040 --> 00:01:50,960
  تو پہلی رات بادشاہ دلہن کے ساتھ سویا کرتا تھا۔

20
00:01:56,640 --> 00:01:59,320
اس طرح یہ سلسلہ دنوں، ہفتوں، ٫
 مہینوں اور سالوں تک چلتا رہا۔

21
00:01:59,440 --> 00:02:01,200


22
00:02:01,280 --> 00:02:02,440
.

23
00:02:04,240 --> 00:02:08,480
ایک دن بادشاہ کی بہن کی بیٹی کی شادی ہویٴ۔

24
00:02:11,000 --> 00:02:15,240
بادشاہ اس موقع کے لیے
خود کو تیار کرنے لگا۔

25
00:02:17,680 --> 00:02:21,400
دلہن نے وادی کے دیوی دیوتاؤں
سے دعا مانگنا شروع کر دی

26
00:02:21,720 --> 00:02:23,160
کہ وہ آ کر اسے بچائيںٴ۔

27
00:02:23,240 --> 00:02:28,000
بادشاہ جب گھر میں داخل ہو
رہا تھا، اس کا ایک پاؤں اندر 

28
00:02:28,080 --> 00:02:29,480
 اور ایک دروازے کے باہر تھا،.

29
00:02:30,040 --> 00:02:33,280
تب اس دلہن کی دعاؤں  کی وجہ سے 

30
00:02:33,800 --> 00:02:37,120
تمام شہر تباہ ہو گیا۔

31
00:02:43,000 --> 00:02:47,440
یہ کہانی میسوپوٹیمیاسے کچھ خیالات کے تبادلے
کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔

32
00:02:47,520 --> 00:02:48,600


33
00:02:48,840 --> 00:02:51,680
یہی کہانی ہمیں”داستانِ گلگامش“میں بھی ملتی ہے۔

34
00:02:53,840 --> 00:02:56,480
موہن جودڑو 
مہر، ~ ۲۳۰۰ قبل مسیح

35
00:02:56,560 --> 00:02:58,920
میں اس قدیم شہر سے کیسے متاثر ہوا؟

36
00:03:04,640 --> 00:03:08,480
میں یہاں پہلی بار ۷۰ کی دہائی کے اوائل میں،
 اسلام آباد کے امریکن اسکول کی نویں جماعت کی ساتھ

37
00:03:08,480 --> 00:03:09,880
اسکول کے سفر پر آیا تھا۔

38
00:03:09,960 --> 00:03:11,920


39
00:03:12,680 --> 00:03:16,800
ہمارے میزبان٫ ہمارے ہم جماعت٫ وزیراعظم کے صاحبزادے
شاہ نواز بھٹو تھے۔

40
00:03:17,040 --> 00:03:20,240
جن کی آبائی زمینیں چند
میل کے فاصلے پر تھیں۔

41
00:03:21,760 --> 00:03:25,200
میرے ساتھ میرا پہلا کوڈیک انسٹامیٹک کیمرہ تھا،

42
00:03:28,400 --> 00:03:31,480
جو مجھے سب سے زیادہ یاد
ہے؛ وہ تھیں خالی گلیاں،

43
00:03:31,560 --> 00:03:35,000
جنہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ مانو یہاں کے
رہنے والے ابھی انہیں چھوڑ کر گئے ہوں۔

44
00:03:39,040 --> 00:03:40,440
پہلی روشنی، ایک بھولی بسری تہذیب پر 

45
00:03:40,520 --> 00:03:42,240
ہندوستان کے ایک نامعلوم قبل از تاریخ دور کی نئ دریافتیں

46
00:03:42,320 --> 00:03:43,800
وہ لوگ کون تھے؟

47
00:03:46,840 --> 00:03:49,280
قدیم ہندوستان میں ”جدید“ نفاست و آراستگی 

48
00:03:49,400 --> 00:03:52,000
ایک نےٴ دریافت شدہ قبل از تاریخ دور کےنسل
کے فنون اور دستکاری۔

49
00:03:52,080 --> 00:03:55,560
قدیم مصر، میسوپوٹیمیا اور چین
کے وقت، (2500-1900 قبل مسیح)

50
00:03:55,920 --> 00:03:59,240
قدیم وادئ سندھ میں                                        
ان سب سے بڑی تہذیب پیدا ہوئی،

51
00:03:59,320 --> 00:04:01,080
جو ان سب کے مجموعے سے بھی بڑی تھی۔

52
00:04:01,920 --> 00:04:05,600
موہن جودڑو اور ہڑپا اس کے پہلے شہر تھے۔

53
00:04:06,200 --> 00:04:09,080
موہن جودڑو اب تک کا سب سے متاثر کن شہر ہے،

54
00:04:09,400 --> 00:04:12,680
 جہاں آدھی سے زیادہ ایسی مہریں ملی ہیں جنہیں آج تک پڑھا نھیں جا سکا ۔

55
00:04:13,600 --> 00:04:15,080
پرچم بردار شہر۔

56
00:04:18,520 --> 00:04:20,720
لیکن میرا پہلا ربطِ باہمی کا شہر ہڑپّہ تھا۔

57
00:04:22,520 --> 00:04:25,120
ایک بچے کی حیثیت سے میں
نے یہاں کئی بار دورہ کیا۔.

58
00:04:27,560 --> 00:04:29,640
میرے پسندیدہ  چچا حافظ

59
00:04:29,720 --> 00:04:32,800
اور چچی سمیہ یہاں سے صرف چند میل
کے فاصلے پر رہتے تھے۔

60
00:04:34,520 --> 00:04:38,400
ان کھنڈرات کی خاموشی نے مجھے بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا٫


61
00:04:38,400 --> 00:04:39,800
 لیکن یہ میرے بچپن کے ساتھ ہی کہیں مٹ گئ۔

62
00:04:42,040 --> 00:04:46,680
  ۱۹۹۵ میں پاکستان سے 
سان فرانسسکو منتقل ہونے کے بعد،

63
00:04:46,960 --> 00:04:48,840
میں ایک ویب سائٹ بنانا چاہتا تھا۔

64
00:04:49,320 --> 00:04:53,160
مجھے یاد آیا کہ بچپن میں بھی مجھے 
 ان کھنڈرات سے کتنی محبت تھی،

65
00:04:53,240 --> 00:04:57,160
 ۔ Harappa.com لہذا میں نے ڈومین نام رکھا 

66
00:04:57,800 --> 00:05:00,440
مجھے نےٴ زمانے کے مرکز میں لفظ ”ہڑپّہ“ کا یہ قدیم انداز بہت پسند آیا۔

67
00:05:00,560 --> 00:05:01,880

68
00:05:02,640 --> 00:05:05,920
لیکن اس سائٹ پر زیادہ تر میرا
ذاتی تاریخی مجموعہ تھا

69
00:05:06,000 --> 00:05:09,440
نہ کہ وادئ سندھ کی قدیم چیزیں     
جو میں نے سائٹ پر ڈالی تھیں۔

70
00:05:11,000 --> 00:05:12,760
 اس وقت میں نے اس کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا۔

71
00:05:14,720 --> 00:05:18,760
 چند ہفتوں کے اندر ہی مجھے ڈاکٹر رچرڈ میڈو
کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی،

72
00:05:18,960 --> 00:05:22,520
 جس میں انہوںنے ہڑپّہ کے آثارِقدیمہ کے تحقیقی پروجیکٹ کا تعارف کرایا۔

73
00:05:22,920 --> 00:05:24,080
کیا میں ان کے بارے میں جانتا تھا؟

74
00:05:25,040 --> 00:05:28,040
انہوں نے شریک ڈائریکٹر ڈاکٹر
مارک کینوئیر کو بھی اس ای میل میں شامل کیا تھا۔

75
00:05:29,440 --> 00:05:31,920
میں نے پیشکش کی کہ کیوں نہ ہم مل کر کام کریں؟

76
00:05:34,240 --> 00:05:39,240
مارک نے 90 سلائیڈز  کا ایک سیٹ  جواب میں بھیجا،  
 جسے وہ اس دور کی ایک نیٴ چیز یعنی ”انٹرنیٹ“ پر اپ لوڈ  کروانا چاہتے تھے۔


77
00:05:39,440 --> 00:05:40,440


78
00:05:41,920 --> 00:05:45,760
میں اس وقت نوجوان تھا اور  مجھے اندازہ بھی نہیں تھا
کہ میں کس چیز میں داخل ہو رہا ہوں۔

79
00:05:49,680 --> 00:05:54,800
ہزاروں صفحات اور 30 سال بعد،
 قدیم وادئ سندھ کی تہذیب پر دنیا کی   harappa.com  آج

80
00:05:54,880 --> 00:05:57,400
صفِ اول کی ویب سائٹ بن چکی ہے۔

81
00:05:57,600 --> 00:06:01,520
 اس میں بڑے اسکالرز، خاص طور پر
مارک کے تعاون کا شکریہ،

82
00:06:01,600 --> 00:06:04,800
 جو دنیا کے معروف، قدیم وادئ سندھ کے سب سے بہترین ماہرِ آثارِ قدیمہ ہیں۔

83
00:06:07,000 --> 00:06:09,880
میرا کردار ایک باخبر جاسوس کا ہے،

84
00:06:10,240 --> 00:06:13,320
 جو ہر روز ہزاروں لوگوں کے
ساتھ اس جنون کو بانٹ رہا ہے۔

85
00:06:16,440 --> 00:06:20,920
 موہن جودڑو آنے سے ٹھیک پہلے،  
میں نے چنئی (ہندوستان) میں ایک کانفرنس میں خطاب کیا۔

86
00:06:21,440 --> 00:06:25,160
یہ جان مارشل کی قدیم سندھ کی تہذیب کے دریافت کا اعلان
کرنے کی 100 ویں سالگرہ تھی۔

87
00:06:25,240 --> 00:06:27,680


88
00:06:28,200 --> 00:06:30,960
میں خود قدیم وادئ سندھ کا عالم نہیں ہوں۔

89
00:06:31,040 --> 00:06:32,600
میں تو بس ایک ایسا انسان ہوں جسے 

90
00:06:32,680 --> 00:06:35,240
اس کے بارے میں سیکھنے کا بہت شوق ہے،
جو اس کی طرف کھنچا نلا آیاہے  

91
00:06:35,320 --> 00:06:38,680
اور جو دنیا کی اس انتہائ  پُراسرار لیکن بےحد اہم تہذیب 
کو مزید سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

92
00:06:38,760 --> 00:06:41,440


93
00:06:48,280 --> 00:06:52,200
ایک صدی بیت گئی، لیکن ہم ابھی
تک ایک لفظ بھی نہیں جان پاےٴ

94
00:06:52,280 --> 00:06:56,240
نہ نام، نہ حکمران، یہاں تک کہ 
مذہب یا زبان بھی نہیں۔

95
00:06:59,160 --> 00:07:03,160
اس کے باوجود، جنوبی ہندوستان
میں بہت سے تمل لوگ اس بات کے قائل ہیں

96
00:07:03,320 --> 00:07:06,640
کہ ان کی ثقافت موہن جودڑو میں شروع ہوئی،

97
00:07:07,000 --> 00:07:11,560
یہ قومی سرحدیں تو محض ۱۹۴۷میں  قائم ہوئ ہیں۔

98
00:07:12,640 --> 00:07:17,080
 تقریباً ۴۰۰۰ سال پہلے  یہیں جنوبی ایشیا کی پہلی
شہری تہذیب پروان چڑھی۔

99
00:07:17,160 --> 00:07:19,360

100
00:07:27,720 --> 00:07:34,080
2. شہر

101
00:07:34,160 --> 00:07:38,480
 میں صبح سویرے جتنی جلدی ہوسکتا
تھا اٹھی اور وہاں پہنچی۔ 

102
00:07:38,560 --> 00:07:40,240


103
00:07:40,320 --> 00:07:42,560
 وہ نظارہ واقعی بےحد شاندار اور لاجواب تھا!

104
00:07:42,640 --> 00:07:46,560
میں بس وہیں کھڑی رہ گئ،  
کھڑی رہی اور وہیں کھڑی رہی

105
00:07:47,080 --> 00:07:50,000
اور سوچتی رہی کہ اس شہر میں رہنا کتنا شاندار رہا ہوگا۔

106
00:07:50,080 --> 00:07:51,560


107
00:07:53,560 --> 00:07:56,720
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ شر  (ماہرِ آثارِ قدیمہ) : ہم
نے صرف 8 فیصد کھدائی کی ہے ابھی تک، 

108
00:07:56,800 --> 00:08:00,200
 جبکہ ابھی بھی ۹۲ فی صد کھدائ کا کام باقی ہے۔

109
00:08:00,840 --> 00:08:07,560
موہنجو دڑو، 1925

110
00:08:15,960 --> 00:08:18,600
  جب میں نے پہلی بار اسے دیکھاتھا 
اس کے ۵۲ سال بعد جب میں نے دوباره وہاں کا دورہ کیا،

111
00:08:18,840 --> 00:08:24,440
میں شہر کی وسعت اور تنظیم 
 دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
( Dk, VS, HR ;( علاقے  



112
00:08:30,160 --> 00:08:32,200
اصل میں، مشہور پادری بادشاہ کا مجسمہ

113
00:08:32,280 --> 00:08:35,400
نام نہاد ستوپ ٹیلے سے
بہت دور دریافت ہوا تھا۔

114
00:08:39,400 --> 00:08:41,520
ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کون تھا۔

115
00:08:46,520 --> 00:08:49,760
’’اے مور، برسات کی رات میں، کتنا پیارا گانا گا رہے ہو!‘‘

116
00:08:56,680 --> 00:09:00,520
کوئی بھی انسان یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ۴۰۰۰ سالوں 
کے دوران اس شہر کا کتنا حصہ پہلے ملا اور پھر کھو گیا۔

117
00:09:00,680 --> 00:09:03,840


118
00:09:04,680 --> 00:09:06,720
مقامی لوگ، یہ بوڑھے مزدور

119
00:09:06,800 --> 00:09:11,320
کہتے ہیں، جب ہمیں کچھ سنہری
چیزیں یا زیورات ملتے تھے

120
00:09:11,440 --> 00:09:13,680
 توہم اپنی جیب میں گھر لے جا تے تھے،

121
00:09:13,760 --> 00:09:17,360
کیونکہ اس وقت انگریز ان کے بدلے
صرف 2 آنا دیا کرتے تھے۔

122
00:09:17,680 --> 00:09:20,640
یہ 1 دن کے لیے 1 روپے کا آٹھواں حصہ تھا،

123
00:09:20,720 --> 00:09:23,480
اس لیے ہم نے انہیں سنہرے
 زیورات نہیں دیے۔

124
00:09:25,240 --> 00:09:28,040
ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ چیزیں کیا ہیں

125
00:09:28,120 --> 00:09:30,360
مہریں یا کچھ اور ؟ 

126
00:09:30,480 --> 00:09:33,040
محمد الیاس ” کھدائی کارکن“
جب ہم چھوٹے بچے تھے ، ہم مہروں پر لات مار مار کر کھیلا کرتے تھے۔

127
00:09:33,120 --> 00:09:34,240

128
00:09:34,320 --> 00:09:37,600


129
00:09:37,680 --> 00:09:44,520
   ۱مربع انچ کی عمومی مہر

130
00:09:44,600 --> 00:09:46,280
”آپ کسی بھی حالات میں قدیم دنیا کے کسی  شہر میں نہیں جانا چاہتے۔

131
00:09:46,400 --> 00:09:47,480


132
00:09:47,640 --> 00:09:49,320
وہ بہت گندے ہیں، بیماری میں مبتلا ہیں

133
00:09:49,400 --> 00:09:52,200
پیچش ہر جگہ۔
 جومیننگ
” یالے کے ماہرِ ِآثارِ ِقدیمہ“ 

134
00:09:52,280 --> 00:09:54,960
موہن جودڑو اتنا گندا نہیں تھا۔

135
00:09:56,080 --> 00:09:59,680
یہ شہر آج صفائی کے اس وقت کے بہترین
نظام کے لیے جانا جاتا ہے۔

136
00:09:59,760 --> 00:10:04,680
 سڑکوں پر ڈھکی ہوئی
نالیاں، دوسری منزل کے غسل خانے،

137
00:10:04,800 --> 00:10:07,520
اور ان سے جڑے ہوےٴ  پائپ جو پانی کو بہالے جاتے تھے۔

138
00:10:08,520 --> 00:10:10,400
 اس شہر میں سینکڑوں کنویں تھے۔

139
00:10:10,920 --> 00:10:15,520
جرمن ماہرِ آثارِ قدیمہ، مائیکل جانسن
 wasserluxus نے اس کے لےٴ اصطلاح استعمال کی۔

140
00:10:15,760 --> 00:10:17,280
یا ”پانی کا عیش و آرام“ 

141
00:10:24,800 --> 00:10:30,200
عظیم غسل خانے، شاید کانسی کے دور
کی بہترین آبی کارناما ہے۔

142
00:10:32,480 --> 00:10:35,680
AI مصنوعی ذہانت :

143
00:10:42,520 --> 00:10:46,240
عظیم حمام سے دیوہیکل نالے کے اندر
جھانک کر مجھے بے حد حیرت ہوئ کہ

144
00:10:46,640 --> 00:10:48,240
ان نالوں کی صفائی کس نے کی؟

145
00:10:50,480 --> 00:10:53,680
یقینی طور پر، سماجی
علیحدگی کے ثبوت موجود ہیں۔.

146
00:10:55,440 --> 00:10:59,240
ہڑپّہ کی طرح، شہر کے علاقوں کو ایک دوسرے سے دیواریں اٹھا کر الگ کیا گیا ہے،

147
00:10:59,520 --> 00:11:02,440
جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر حصے میں کوئ خاص قبیلہ یا کسی 
خاص ہنر کے  ماہر لوگ
رہتے تھے۔

148
00:11:04,160 --> 00:11:07,080
پہلی گلی شہر کے ایک پورے
دائرے کے ساتھ چلتی تھی۔

149
00:11:09,640 --> 00:11:13,480
پہلی گلی جو اس کی چوڑائی
ظاہر کرتی ہے، موہنجوداڑو۔

150
00:11:13,560 --> 00:11:15,400
کچھ ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ

151
00:11:15,480 --> 00:11:18,240
راستے کے کنارے دکانیں اور کارخانے موجود تھے۔

152
00:11:20,720 --> 00:11:24,200
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں
کئی طرح کے لوگ رہتے تھے،

153
00:11:24,440 --> 00:11:26,680
ماہی گیروں سے لے کر سنار تک،

154
00:11:26,960 --> 00:11:30,400
کمہاروں اور کپڑوں کے تاجروں سے لے کر ان
چیزوں کے ڈیلرز تک جن

155
00:11:30,400 --> 00:11:31,760
کا ہم نام نہیں لے سکتے۔

156
00:11:32,720 --> 00:11:37,080
اصل سندھ کے نشانات

157
00:11:39,080 --> 00:11:42,440
وہ جو بھی تھے، انہوں نے
اپنے بچوں کو ضرور بگاڑا ہوگا۔

158
00:11:43,200 --> 00:11:46,320
یہ واضح نہیں ہے کہ کانسی کے
زمانے کے کسی دوسرے شہر سے کھدائ کے دوران 

159
00:11:46,440 --> 00:11:49,520
فی مربع میٹر اتنے زیادہ کھلونے نکلے ہوں جتنے یہاں سے ملے ہیں۔

160
00:11:56,760 --> 00:12:01,760
کچھ ،جیسے چہچہانے والے پرندے 
آج بھی دیہات میں عام ہیں۔

161
00:12:02,440 --> 00:12:07,040
صرف چنچل لوگ ہی پرندوں کےایسے پنجرے بناتے ہیں
جس میں پرندے باہر نکلتے ہوئے دکھائ دیتے ہیں۔

162
00:12:11,720 --> 00:12:14,720
 یہ ظاہر ہے کہ انہوں نے بہت سے کھیل کھیلے۔

163
00:12:15,680 --> 00:12:16,760
یہ دیکھو،

164
00:12:17,680 --> 00:12:20,000
یہاں تک کہ میں نے بھی ایک
پانسہ زمین پر پڑا پایا۔

165
00:12:22,200 --> 00:12:24,920
کیا دنیا کا کوئی کھیل یہاں سے شروع ہوا؟

166
00:12:28,280 --> 00:12:31,800
کچھ کہتے ہیں کہ یہ ایک پرامن
مساوات پر مبنی تہذیب تھی۔

167
00:12:32,520 --> 00:12:34,400
 لیکن میں نے وہ کہانی کبھی نہیں مانی،

168
00:12:35,600 --> 00:12:40,720
وہاں اعلیٰ طبقے کے کافی ثبوت ہیں
جیسے بڑے گھر اور اسراف، زیورات

169
00:12:41,520 --> 00:12:43,240
یہاں تک کہ ہتھیار اور تصادم بھی۔.

170
00:12:45,000 --> 00:12:49,120
لیکن اپنے ہم عسر پڑوسیوں کے بر عکس وہاں 
عسکریت پسندی (ملیٹری راج) کے آثار،

171
00:12:49,440 --> 00:12:50,320
بہت محدود ہیں۔

172
00:12:53,680 --> 00:12:54,920
 وادئ سندھ کی تہذیب کی دونوں مشہور نشانیاں

173
00:12:55,000 --> 00:12:58,200
موہہن جودڑو سے ملی تھیں۔

174
00:12:59,280 --> 00:13:02,920
ڈانسنگ گرل ( رقاصه ) شاید  ” پجاری بادشاہ“
سے زیادہ مشہور ہے۔

175
00:13:04,400 --> 00:13:06,480
کچھ لوگ شک کرتے ہیں کیا وہ واقعی ایک رقاصہ تھی؟ 

176
00:13:06,560 --> 00:13:09,560
لیکن جس طرح اس کا کمر پر ہاتھ رکھنے کا انداز آج تک برقرار ہے،
اس سے مجھے پورا یقین ہے کہ وہ رقاصہ ہی تھی۔

177
00:13:09,760 --> 00:13:13,680
ناچنے والی لڑکیاں

178
00:13:14,880 --> 00:13:19,880


179
00:13:23,400 --> 00:13:26,200
کیا آپ نے ناچنے والی لڑکی کو
دیکھا ہے؟ کیا وہ ناچ رہی ہے؟

180
00:13:26,280 --> 00:13:27,960
آپ کو نہیں لگتا کہ وہ ناچ رہی ہے؟

181
00:13:28,040 --> 00:13:29,040
ہرگز نہیں!

182
00:13:29,200 --> 00:13:30,480
ڈاکٹر شیریں رتناگر 
معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ، ممبئ

183
00:13:30,560 --> 00:13:32,840
ایڈورڈینز لوگوں کا خیال تھا کہ غیر اخلاقی خواتین،

184
00:13:33,040 --> 00:13:36,480
وہاں برطانوی فوجیوں کی تفریح
کے لیے رقص کرنے کے لےٴ تھیں ۔

185
00:13:37,480 --> 00:13:39,640
گھر بنانے والی، (رقاصہ نہیں)
 کچ علاقہ

186
00:13:39,720 --> 00:13:43,800
مارک اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ” ڈانسنگ گرل“
رقاصہ ایک نوآبادیاتی تعصب ہے۔

187
00:13:44,400 --> 00:13:48,120
وہ مون جودڑو کے اس مجسمے کے ممکنہ مقصد کے
طور پر ” پجاری“ ( مذہبی رسومات کی ادائگی )
کو ترجیح دیتے ہیں۔

188
00:13:48,240 --> 00:13:51,120

189
00:13:51,200 --> 00:13:52,800
 مندر کی رقاصہ
بھوبنیشور،اڑیسہ
تخلیق کردہ: مارک کینویر


190
00:13:52,880 --> 00:13:56,240
ہم ماضی کو شیشے کے رنگین
ٹکڑوں سے دیکھتے ہیں،

191
00:13:56,320 --> 00:13:57,760
جو آج ہماری آنکھوں کو بھا جاتا ہے۔

192
00:13:57,840 --> 00:13:59,280
ناچنے والی لڑکی، موہن جودڑو

193
00:14:00,320 --> 00:14:04,160
موہن جودڑو میں ایک غیر معروف
دوسری رقاصہ بھی پائی گئی۔

194
00:14:05,880 --> 00:14:08,120
شاید ان خواتین نے رقص کے علاوہ  کئ اور کام بھی کیے۔

195
00:14:08,440 --> 00:14:13,800
ابتدائی قبائلی ہندوستانی معاشروں میں
رقاصوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے حکومت کی۔

196
00:14:17,080 --> 00:14:21,000
آزادی کے وقت، ان دو مجسموں
میں سے ایک ہندوستان کے حصے میں آیا

197
00:14:21,080 --> 00:14:23,880
اور دوسرا پاکستان کے۔

198
00:14:28,720 --> 00:14:32,360
ہندوستان کی تقسيم کے ساتھ ہی
پاکستان نئ خود مختار ریاست

199
00:14:33,800 --> 00:14:39,200
جب اگست 1947 میں برطانوی ہندوستان کو
ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کیا گیا۔

200
00:14:39,560 --> 00:14:42,800
نئے ممالک نے اپنے سندھ
کے نمونے تقسیم کر لیے۔

201
00:14:43,320 --> 00:14:47,560
موہن جودڑو کے بہترین ہار کے  دو ٹکڑے کر دیے گےٴ۔

202
00:14:48,000 --> 00:14:52,120
ایک حصہ آج اسلام آباد
میں، دوسرا آدھا دِلّی میں ہے۔

203
00:14:54,440 --> 00:14:59,040
درحقیقت، بہت سی اہم چیزیں
ہندوستان بھیجی گئیں۔

204
00:15:01,400 --> 00:15:03,480
AI مصنوعی ذہانت: 

205
00:15:03,560 --> 00:15:07,080
 ۴۰۰۰ سال پرانی
تہذیب مشکل سے دریافت ہی ہوئی تھی کہ

206
00:15:07,800 --> 00:15:09,200
تبھی  یہ تقسیم کر دی گئ۔.

207
00:15:14,000 --> 00:15:20,720
3. قلعہ

208
00:15:22,720 --> 00:15:24,960
شہر پر نظر رکھنے والی ایک اونچی جگہ (ٹیلے) پر اس کا  

209
00:15:25,040 --> 00:15:28,960
سب سے مشہور حصہ واقع ہے،، 
جسے نام نہاد اسٹوپا ٹیلا (ستوپ ٹیلا) کہا جاتا ہے۔

210
00:15:29,720 --> 00:15:33,840
اس میں دوسری یا تیسری صدی عیسوی کے
  بدھ مت کا ڈھانچہ(ستوپ) موجود ہے۔

211
00:15:34,320 --> 00:15:37,840
ایک بڑا تنازعہ یہ ہے کہ


212
00:15:37,920 --> 00:15:39,520
  کیا یہ جگہ وادئ سندھ کے زمانے میں بھی کوئ مقدس مقام تھی یا نہیں۔

213
00:15:40,120 --> 00:15:46,240
اس جگہ کی سب سے پہلے کھدائی کرنے والے، ” آر ڈی بنرجی“ نے
 ہزاروں کی تعداد میں نذرانے  کے انداز کے برتن دریافت کیے

214
00:15:46,840 --> 00:15:51,040
یہ بلکل اسی قسم کی چیزیں ہیں جو کوئی بھی 
کسی مقدس مقام پر نذر کرنے کے لےٴ رکھتا ہے۔

215
00:15:52,920 --> 00:15:53,920
سائٹ نمبر ۱ :  کا پورا علاقہ

216
00:15:54,120 --> 00:15:58,280
“سائٹ نمبر 1 جنازے کے مٹکوں سے ڈھکی ہوئی تھی”
 آر ڈی بنرجی ( پہلے کھدائ کرنے والے)

217
00:15:58,280 --> 00:16:00,000
1922-23

218
00:16:00,080 --> 00:16:03,120
تاہم، برطانوی چیف ماہرِ کھدائی

219
00:16:03,200 --> 00:16:07,560
سر جان مارشل نے اس تشریح پر سوال
اٹھایا، جیسا کہ دوسروں نے بھی کیا ۔

220
00:16:12,720 --> 00:16:17,640
حالیہ دنوں میں، ڈاکٹر جیوانی
ویرارڈی نے بنرجی سے اتفاق کیا ہے۔

221
00:16:18,160 --> 00:16:22,480
انہوں نے دلیل دی کہ یہ جگہ سندھ کے
زمانے میں بھی ایک مذہبی مقام تھی

222
00:16:22,560 --> 00:16:25,920
اور تجویز  پیش کی کہ کبھی یہاں سے سیڑھیاں اوپر
 ایک پلیٹ فارم ( چبوترے) کی طرف جاتی تھیں۔

223
00:16:25,440 --> 00:16:27,680
AI مصنوعی ذہانت:

224
00:16:27,520 --> 00:16:30,880
 بلکل اسی طرح جیسے قدیم میسوپوٹیمیا میں زیگگورات میں ہوا کرتی تھیں۔

225
00:16:31,640 --> 00:16:34,480
اس چیز نے اس پورے ٹیلہ کو ایک مقدس مقام بنا دیا ہوگا ۔

226
00:16:40,720 --> 00:16:42,840
پھر ہم عظیم حمام کی طرف آتے ہیں،

227
00:16:43,000 --> 00:16:47,080
جس پر زیادہ تر ماہرینِ آثارِ قدیمہ
متفق ہیں کہ یہ ایک رسم کی جگہ تھی۔

228
00:16:49,080 --> 00:16:54,320
ہم جانتے ہیں کہ آج کل ہندو اور سکھ مندروں
کے نزدیک اکثر پانی کے بڑے حمام ہوتے ہیں۔

229
00:16:55,040 --> 00:17:00,480
میرے خیال میں ان میں کچھ گہرا تعلق ہے،
لیکن ہر کوئی متفق نہیں ہوگا۔

230
00:17:01,320 --> 00:17:03,560
ڈاکٹر شیریں رتناگر: میرا خیال ہے،

231
00:17:03,640 --> 00:17:06,760
یہ ایک شاہی اقتدار کی منتقلی (تاج پوشی)   کی ایک مذہبی رسم تھی۔

232
00:17:07,440 --> 00:17:13,640
کوئی شخص کسی طرح رسمی طور پر
حمام میں نیچے اترتا اور دوبارہ باہر آتا تھا۔

233
00:17:14,560 --> 00:17:19,840
پانی کے ٹینک میں نیچے جانے والی
سیڑھیوں کا صرف ایک محدود سلسلہ ہی موجود ہے

234
00:17:20,080 --> 00:17:21,480
اور وہ کسی بھاری مذہبی رسم کے ساتھ دوبارہ باہر آتے ہیں۔ 

235
00:17:22,560 --> 00:17:24,840


236
00:17:27,400 --> 00:17:30,320
اگر یہ پورا علاقہ واقعی مقدس تھا،

237
00:17:30,440 --> 00:17:35,000
اس سے اس خیال کی تائید ہو سکتی
ہے کہ اس شہر کے بانی پجاری (مذہبی پیشوا) تھے۔

238
00:17:35,520 --> 00:17:38,560
جیسا کہ وہ ابتدائی
میسوپوٹیمیا کے شہروں میں ہوا کرتے تھے۔

239
00:17:40,000 --> 00:17:42,120
ان شہروں سے بہت ہی کم مجسمے ملے ہیں

240
00:17:42,200 --> 00:17:45,560
   اور ان میں سے تقریباً
سبھی موہن جودڑو سے ملے ہیں۔

241
00:17:45,960 --> 00:17:47,840
 ان پر ایک پجاریانہ طرز کا غلبہ ہے۔

242
00:17:48,480 --> 00:17:51,840
گھٹنے پر ایک ہاتھ اور بال پیچھے کی طرف بندھے ہوےٴ ہیں۔

243
00:17:53,640 --> 00:17:56,640
اسی طرح کا ایک مجسمہ
دھولاویرا میں بھی ملا تھا۔

244
00:17:56,720 --> 00:17:58,840
دھولاویرا، انڈیا ~ 2500 قبل مسیح

245
00:17:58,920 --> 00:18:00,720
ایک اور اطالوی ماہرِ آثارِ قدیمہ

246
00:18:00,800 --> 00:18:04,360
   ماسیمو ویدالے اشارہ کرتے ہیں کہ  Massimo Vidale
 اس دور میں اسی طرح کے پجاریوں جیسے مجسمے

247
00:18:04,480 --> 00:18:08,120
 ایران اور افغانستان میں بھی موجود تھے۔

248
00:18:08,320 --> 00:18:09,320
زاہدان ~ 2300 قبل مسیح

249
00:18:09,560 --> 00:18:12,680
منڈیگک ~ 2100 قبل مسیح

250
00:18:12,760 --> 00:18:16,000
موہنجو داڑو ~ 2300 قبل مسیح

251
00:18:16,080 --> 00:18:18,920
میرے مرحوم دوست، اروتھم مہادیون

252
00:18:19,000 --> 00:18:22,560
سندھی رسم الخط کے ہندوستان
کے معروف ماہر تھے۔

253
00:18:23,040 --> 00:18:25,320
وادئ سندھ کارسم الخط، جسے عام طور پر
”جار سائن“ (مرتبان کا نشان )کہا جاتا ہے،

254
00:18:25,440 --> 00:18:27,960
  اس خط میں سب سے زیادہ کثرت سے آنے والا نشان
ہے۔

255
00:18:29,400 --> 00:18:30,880
ہندوستانی روایت میں،

256
00:18:30,960 --> 00:18:35,520
حکمران طبقے، شہزادے اور پجاری

257
00:18:35,560 --> 00:18:38,200
 ہمیشہ ایک برتن سے  پیدا ہونے کا دعوی کرتے تھے۔

258
00:18:46,200 --> 00:18:48,840
تمام بڑے رشی جار (گھڑے) سے  پیدا ہوئے ۔

259
00:18:48,920 --> 00:18:51,480
آگستیہ تمل رشی

260
00:18:53,440 --> 00:18:55,480
 وادئ سندھ کے کئ نشانات پجاریوں کے 
اس مرتبان والے نمونے کو 

261
00:18:55,560 --> 00:18:59,480
ممکنہ تجارتی علامتوں کے
ساتھ جوڑتے ہیں۔

262
00:19:00,040 --> 00:19:01,960
کیا پجاری تجارت کو کنٹرول کرتے تھے؟

263
00:19:02,760 --> 00:19:07,160
بعد کی بدھ مت، جین اور ہندو روایات میں مذہب اور
تجارت لازم و ملزوم تھے۔

264
00:19:07,240 --> 00:19:09,680
۔

265
00:19:10,320 --> 00:19:16,120
مزید شواہد ان پراسرار، بالکل ایک
جیسے سائز کے کمروں سے ملتے ہیں۔

266
00:19:16,680 --> 00:19:20,000
اسی طرح کی ایک ساخت ہڑپّہ میں بھی پائ گئ تھی۔

267
00:19:21,080 --> 00:19:23,520
وہ شاید تجارت کے لیے گودام ہیں،،

268
00:19:23,880 --> 00:19:29,840
نہ کہ اناج کے گودام جیسا کہ اصل میں ایک
انگریز ماہرِ آثارِ قدیمہ نے تصور کیا تھا۔

269
00:19:30,040 --> 00:19:32,040
سر مورٹیمر وہیلر کی  تیارکردہ باز تخلیق، ۱۹۶۶

270
00:19:32,480 --> 00:19:35,560
موہن جودڑو میں یہ بالکل قلعے کے اندر،   

271
00:19:35,840 --> 00:19:37,920
عظیم غسل خانے کے ساتھ واقع ہے۔

272
00:19:38,560 --> 00:19:43,320
اس سے پتہ چلتا ہے کہ تجارت پر
مذہبی اشرافیہ کا کنٹرول تھا۔

273
00:19:45,520 --> 00:19:48,720
اگر ایسا ہے تو انہوں نے
نظم و ضبط  کیسے برقرار رکھا؟

274
00:19:50,920 --> 00:19:52,560
کیا یہ تشدد کے ذریعے تھا؟

275
00:19:54,400 --> 00:19:58,760
موہن جودڑو کی سب سے
مشہور داستانی مہروں میں سے ایک میں دکھایا گیا ہے،

276
00:19:58,840 --> 00:20:02,000
 جو انسان کے سر کی قربانی ہوسکتی ہے۔

277
00:20:04,560 --> 00:20:09,880
لیکن  اس شہر سے  ملنے والی ایک اور داستانی مہر ظاہر کرتی ہے
 جسے کچھ لوگوں نے پروٹو شیو 

278
00:20:10,120 --> 00:20:13,240
پشوپتی، یا حیوانوں کا رب کہا ہے،

279
00:20:13,560 --> 00:20:19,120
 جس کے پاس تمام جانور پرامن
تابعداری کے ساتھ آتے ہیں۔ وہ جانور

280
00:20:19,200 --> 00:20:22,800
مختلف قبائل، شہروں، یا تاجروں 
 کی انجمنوں کی نمائندگی کر سکتے تھے۔

281
00:20:29,800 --> 00:20:32,120
میں اس سائز کے شہر کا
تصور بھی نہیں کر سکتا

282
00:20:32,480 --> 00:20:35,800
 جہاں ایک مضبوط حکمران طبقہ یا
عقیدہ کا نظام نہ ہو۔

283
00:20:36,240 --> 00:20:37,760
لیکن مزید تحقیق کے بغیر یہ کہنا

284
00:20:37,960 --> 00:20:41,560
 وہ نظام کیا تھا یہ کافی حد تک ہمارے تصورات پر منحصر ہے۔

285
00:20:41,920 --> 00:20:44,560
اور ہمارا تخيل تو یوں بھی بے لگام دوڑ سکتا ہے

286
00:20:44,880 --> 00:20:47,640
جیسا کہ وہ پہلے ہی موہن جودڑو
کے آس پاس کررہے تھے۔

287
00:20:53,320 --> 00:20:55,960
ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ لفظ
موہن جودڑو کا مطلب کیا ہے۔

288
00:20:56,560 --> 00:20:59,520
جان مارشل نے کہا کہ اس کا
مطلب تھا "موت کا ٹیلہ“۔

289
00:20:59,560 --> 00:21:00,800
ارشاد علی سولنگی: (سیاحتی رہنما)

290
00:21:00,880 --> 00:21:03,160
 جو پرانے زمانے کے لوگ تھے 
وہ کہتے تھے یہ قبرستان ہے ”وہاں مت جاؤ“

291
00:21:03,240 --> 00:21:04,760
یہاں کے مقامی لوگ جو اپنی روٹی پکانے کے لےٴ 

292
00:21:05,200 --> 00:21:09,360
 سائٹ سے ایندھن کے لےٴ لکڑیاں چنتے تھے،
وہ بھی کہتے تھے کہ یہاں عذاب ہے ۔

293
00:21:09,480 --> 00:21:12,880


294
00:21:12,960 --> 00:21:14,960
کچھ لوگ کہتے تھے،

295
00:21:15,040 --> 00:21:16,840
یہ ایک تباہ شدہ شہر ہے

296
00:21:16,920 --> 00:21:18,400
اس کے نزدیک جانا گناہ ہے۔

297
00:21:32,040 --> 00:21:38,960
4. تحریر

298
00:21:44,120 --> 00:21:46,320
آپ کی نظر میں موہن جودڑو کا کیا مطلب ہے؟

299
00:21:46,440 --> 00:21:48,160
کیا یہ مردہ کا ٹیلہ ہے یا نہیں؟

300
00:21:48,400 --> 00:21:50,520
آپ کی تعبیر کیا ہے؟ نہیں، نہیں، نہیں.

301
00:21:50,680 --> 00:21:52,720
 ڈاکٹر غلام مصطفیٰ شار: موہن کرشن کی صفت ہے۔

302
00:21:52,800 --> 00:21:55,840
ہندو نام کی وجہ سے لوگ
اسے یہاں پسند نہیں کرتے۔

303
00:21:56,440 --> 00:21:59,480
دروازے کو بھی ہم ”موہو“ کہتے ہیں ۔

304
00:21:59,560 --> 00:22:03,880
موہو کا مطلب ”سامنے“ ہے، ہم
کہتے ہیں موہو یا سموہو، سامنے۔

305
00:22:03,960 --> 00:22:07,000
تو موہن جودڑو کا مطلب ہے
” ایک چہرہ والا شہر“۔

306
00:22:22,720 --> 00:22:25,800
موہن جودڑو بھی نشانوں کا شہر ہے۔

307
00:22:27,200 --> 00:22:28,720
ہم انہیں ابھی تک نہیں پڑھ سکے۔

308
00:22:28,800 --> 00:22:32,880
 لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ انہوں نے بین الاقوامی
تجارتی نیٹ ورک بنانے میں مدد کی۔

309
00:22:32,960 --> 00:22:37,680
جسے سندھ کے تاجروں نے اس وقت استعمال کیا جب
وہ دور دراز میسوپوٹیمیا کا سفر کرتے تھے۔

310
00:22:37,760 --> 00:22:40,200
 میسوپوٹامین مہر والے سندھ کے تاجر

311
00:22:40,280 --> 00:22:43,040
ارواتھم مہادیون: سندھی رسم الخط کے ماہر

312
00:22:43,120 --> 00:22:49,800
  ہڑ پّہ کے ہر اہم اور بااثر شخص کے پاس اپنی 
ایک مہر ہوتی تھی، جسے وہ ڈوری میں پرو کر

313
00:22:49,880 --> 00:22:54,080
 غالباً اسے اپنے گلے میں لٹکاتے تھے اور
اس کا استعمال اپنی دستاویزات، 

314
00:22:54,080 --> 00:22:55,880
اپنی خرید و فروخت، یا رئيسوں کے 
 احکامات کی تصدیق کے لیے کرتے تھے۔ 

315
00:22:55,960 --> 00:22:58,800
۔

316
00:22:59,280 --> 00:23:03,160
اس لحاظ سے ہڑپّہ اور موہن جودڑو
کی مہریں 

317
00:23:03,240 --> 00:23:08,040
 سمیرین، اکادین اور
مصری شہروں میں پائ جانے والی
 مہروں سے مختلف نہیں ہیں۔

318
00:23:09,440 --> 00:23:12,480
مہروں کو نرم مٹی کے لوندے پر،

319
00:23:15,280 --> 00:23:17,120
ڈوری کی گرہ کے اوپر،

320
00:23:20,760 --> 00:23:22,760
یا براہِ راست برتن پرثبت کیا جاتا تھا  ۔

321
00:23:25,640 --> 00:23:29,200
 مہر نے اختیار یا ملکیت
کے نشان کے طور پر کام کیا،

322
00:23:29,640 --> 00:23:34,160
جس سے ذمہ دار اہلکار، تاجر
یا ادارے کی نشاندہی ہوتی تھی۔

323
00:23:38,080 --> 00:23:40,120
اگر ہم ان مہروں کو سمجھ سکیں تو 

324
00:23:40,480 --> 00:23:42,800
ہم ان لوگوں کے بارے میں بہت کچھ جان پائيں گے۔

325
00:23:48,120 --> 00:23:51,160
بہت سے اسکالرز کے خیال میں،
یہ زبان پروٹو-دراوڑی تھی۔

326
00:23:51,440 --> 00:23:53,320
جیسا کہ آج جنوبی ہندوستان میں بولی جاتی ہے۔

327
00:23:53,760 --> 00:23:57,800
درحقیقت، یہ زبان آج بھی اس لسانی خطے 
 سے زیادہ دور نہیں بولی جاتی، 

328
00:23:58,560 --> 00:24:03,840
لسانی آثارِ قدیمہ بتاتا ہے
کہ اس بڑے خطے میں دوسری زبانوں نے بھی

329
00:24:04,040 --> 00:24:07,280
اس قدیم سندھی زبان کی ترقی یا تشکیل میں ایک اہم کردار نبھا یا ہوگا۔

330
00:24:07,520 --> 00:24:09,400
قدیم سندھی زبان

331
00:24:10,400 --> 00:24:13,440
درحقیقت، غالباً بہت سی زبانیں بولی جاتی تھیں،

332
00:24:13,720 --> 00:24:19,840
بالکل ویسے ہی جیسےآج  ہر روز موہن جودڑو ( کے علاقے ) میں
 بو لی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں سندھی، سرائیکی، بلوچی،

333
00:24:20,120 --> 00:24:23,240
اردو، انگریزی، پنجابی اور پشتو۔

334
00:24:25,240 --> 00:24:27,720
  یہ مختلف تہذیبوں اور روایات کا ایک سینڈوچ (امتزاج) ہے۔

335
00:24:28,480 --> 00:24:29,920
یہ ایک یکساں ثقافت کے بجاےٴ،

336
00:24:30,120 --> 00:24:35,680
شاید ایک عظیم کثیرالثقافتی معاشرہ ہی
وادئ سند کی تہذیب کے ان ۷۰۰ سالوں
 کی بہترین وضاحت کرتا ہے۔

337
00:24:35,840 --> 00:24:37,400


338
00:24:40,120 --> 00:24:42,920
 ان تمام نوادرات میں 
سب سے قیمتی ”مہریں“ ہیں

339
00:24:43,000 --> 00:24:44,200
  جو ہندوستانی فن کی کسی بھی چیز سے مختلف ہیں۔

340
00:24:44,280 --> 00:24:46,320

341
00:24:46,440 --> 00:24:49,640
جان مارشل، ڈائریکٹر
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا، 1924

342
00:24:51,800 --> 00:24:55,720
کیا حکمران اشرافیہ کی طرف سے ایک
ہی تحریری زبان استعمال کی جاتی تھی؟

343
00:24:56,320 --> 00:24:58,920
موہن جودڑو کی زیادہ تر مہروں پر 


344
00:24:59,200 --> 00:25:05,160
کسی ایک جانور کے برعکس ایک سینگ اور
جسم والا نام نہاد ایک تنگاوالا (یونیکورن) کی شکل بنی ہوئ تھی۔

345
00:25:05,240 --> 00:25:06,680
یہ بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

346
00:25:09,000 --> 00:25:11,480
ایک تنگاوالا، غالباً اچھی طرح


347
00:25:11,680 --> 00:25:15,280
 سےمختلف قبائل، دستکاری، یا
علاقائی گروہوں کے ملاپ کی نمائندگی کرتا ہوگا۔

348
00:25:17,240 --> 00:25:21,520
زیادہ مہروں پر ایک تنگاوالا کو ایک
منفرد علامت کے ساتھ دکھایا گیاہے۔

349
00:25:22,080 --> 00:25:27,280
ایک تنگاوالا سے پہلے جو آپ کو
پراسرار روایتی چیز (کلٹ آبجیکٹ) ملتی ہے،

350
00:25:27,400 --> 00:25:28,360
وہ ایک چھلنی (فلٹر) ہے.

351
00:25:28,720 --> 00:25:30,280
جو تین حصوں پرمشتمل ہے۔

352
00:25:30,520 --> 00:25:36,880
اس کا اوپری حصہ ایک سلنڈرنما برتن ہے، اور
نچلا حصہ نصف گول برتن ہے جس میں سوراخ ہیں۔

353
00:25:37,200 --> 00:25:41,240
بالكل اسی طرح جیسے کسی چھلنی میں ہوتے ہیں
 اور یہ پوری چیز ایک لاٹھی یا ڈنڈے پر ٹکی ہوئ ہے۔

354
00:25:41,840 --> 00:25:46,880
یہ ڈنڈا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا مقصد
 اسےجلوسوں میں لے جانے کا ایک معیار تھا۔

355
00:25:47,120 --> 00:25:52,760
یہ ایک ایسا مذہبی عقیدہ تھا جو کسی نشہ آور
یا وہم انگیز دوا پر مبنی تھا۔

356
00:25:53,160 --> 00:25:56,880
 جسے پودوں سے دھو کر اور چھان کر نکالا جاتا
تھا اور  مذہبی رسمی طور پر  پیا جاتا تھا۔

357
00:25:59,800 --> 00:26:03,520
عمر خان صاحب، میں آپ کو بتانا چاہتا
ہوں کہ یہ ایک نظریہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

358
00:26:06,920 --> 00:26:10,560
موہن جودڑو کی  بیانیہ مہروں کو دیکھ کرلگتا ہے
ان میں بہت کچھ پوشیدہ ہے۔

359
00:26:11,160 --> 00:26:16,800
ان مین سے کئ مہروں پر شیر بنے ہوےٴ ہیں۔
کسی دور میں یہ 
کبھی وادئ سندھ میں بکثرت موجود تھے۔

360
00:26:19,040 --> 00:26:22,120
دھولاویرا میں، ایک بڑا سائن بورڈ ملا ہے جو

361
00:26:22,200 --> 00:26:26,560
قلعہ بند شہر کے داخلی راستے کے
اوپر تھا، جس سے میرے اس خیال کو توقیت ملتی ہے 

362
00:26:26,800 --> 00:26:30,320
کہ یہ گول دائرہ کسی قسم
کی حکمرانی کی کوئ علامت ہے،

363
00:26:30,760 --> 00:26:34,720
بھلے ہی وہ ایک سچ مچ کا چرخہ نہ ہو
جیسا کہ گاندھی جی استعمال کرتے تھے۔

364
00:26:37,480 --> 00:26:41,200
ہمیں شبہ ہے کہ  کپڑے کی صنعت (ٹیکسٹائل) وادئ سندھ
کی معیشت کا ایک اہم حصہ تھی۔

365
00:26:41,280 --> 00:26:43,240


366
00:26:43,960 --> 00:26:48,080
آج کے ہندوستانی پرچم پر ایک
مختلف بدھ مت کا پہیہ نظر آتا ہے۔

367
00:26:51,320 --> 00:26:56,240
۱۹۰۰ قبل مسیح کے آس پاس 
 یہ تہذیب ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

368
00:26:57,600 --> 00:27:00,320
بہت سے مجسمے مسخ شدہ یا سر کے بغیر ہیں

369
00:27:00,560 --> 00:27:03,680
 جو کسی سیاسی یا مذہبی ہلچل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

370
00:27:04,760 --> 00:27:08,960
ابتدائی آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے  دعویٰ کیا تھا کہ حملہ ور آریاؤں
نے یہاں قتلِ کیا تھا۔

371
00:27:09,440 --> 00:27:13,120
لیکن موہن جودڑو سے ملنے والے
محدود شواہد کواب غلط ثابت کر دیا گیا ہے۔

372
00:27:13,760 --> 00:27:18,480
 اس زوال کی وجہ زیادہ تر موسمیاتی تبدیلی،
اندرونی مسائل،

373
00:27:18,560 --> 00:27:22,480
ممکنہ طور پر بیماری، اور
تجارتی نیٹ ورکس کا ٹوٹ جانا تھی۔

374
00:27:24,480 --> 00:27:28,800
کوئی بھی بات یقین سے نہین کہی جا سکتی،
 لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں
کہ ایک تنگاوالا غائب ہو گیا۔

375
00:27:30,880 --> 00:27:33,960
اسی طرح اگلے ۱۰۰۰سالوں  
تک لکھنے کا کام ختم ہو گیا۔

376
00:27:37,480 --> 00:27:40,760
تاہم موہن جودڑو کو ترک نہیں کیا گیا۔

377
00:27:41,240 --> 00:27:43,960
اسے جھوکر ثقافت کے لوگوں نے آباد کیا،

378
00:27:44,160 --> 00:27:47,400
جنہوں نے صدیوں اس کی پیروی کی 
اور پھر بدھ مت کی حکمرانی آئ۔

379
00:27:48,960 --> 00:27:51,360
جیسے ہی ان کی تہذیب ختم ہو رہی تھی،

380
00:27:51,480 --> 00:27:55,520
قدیم وادئ سندھ کے لوگ اپنی مہریں
خلیج عرب لے گےٴ۔

381
00:27:56,320 --> 00:27:59,680
آج وہاں بہت سے مالی
امداد سے کھدائی جاری ہے۔

382
00:28:00,320 --> 00:28:05,360
مجھے امید ہے کہ انہیں کوئ ایسی دو لسانی تحریر مل جاےٴ گی
جس میں وادئ سندھ کے نشانات کے ساتھ ساتھ   

383
00:28:05,480 --> 00:28:07,200
کسی دوسري زبان کے الفاظ بھی ہوں گے۔

384
00:28:07,680 --> 00:28:10,240
اس سے ہمیں اس رسم الخط کو سمجھنے
میں واقعی مدد ملے گی۔

385
00:28:12,880 --> 00:28:16,120
میرے خیال سے  , (AI) مصنوعی ذہانت 
 اس لکھائ کو سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔

386
00:28:16,440 --> 00:28:19,240
اس رسم الخط کو پڑھنے کے ليے 
انعامات کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے،

387
00:28:19,640 --> 00:28:24,600
مصنوعی ذہانت ماڈلز کی جانچ (AI)  لیکن 
کرنے کے ليےتحریروں کا کوئی عوامی ڈیٹا بیس نہیں ہے۔

388
00:28:26,200 --> 00:28:29,720
”اسٹالن، تامل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ نے وادئ سندھ کے رسم الخط
  کو ڈیکوڈ کرنے پر ۱۰ لاکھ (ایک ملین) امریکی ڈالر انعام کا اعلان کیا“ 
ہمارے پاس جوسب سے بہتر ڈیٹا ہے 
 وہ ۱۹۷۰کی دہائی کا مہادیون کا تیار کردہ ہے۔

389
00:28:30,400 --> 00:28:32,160
ایک مخلص جرمن اسکالر،

390
00:28:32,280 --> 00:28:36,280
ڈاکٹر اینڈریاس فلز، ایک بہت
بڑے ڈیٹا بیس کی دیکھ بھال کرتے ہیں

391
00:28:36,640 --> 00:28:38,840
لیکن اسے مناسب وسائل میسر نہیں ہیں۔.

392
00:28:41,400 --> 00:28:44,200
 وہاں ہزاروں ایسی تحریریں ہیں جن کی 
درجہ بندی (کیٹالوگ) ہونا ابھی باقی ہے۔

393
00:28:45,640 --> 00:28:49,080
 اس وقت کے سب سے معروف زندہ اسکالر 
فن لینڈ کے شاندار پروفیسر آسکو پارپولا،

394
00:28:49,160 --> 00:28:53,040
 ۸۴ برس کے ہو چکے ہیں 
اور ان کا کوئی وارث نہیں ہے۔

395
00:29:05,880 --> 00:29:11,400
5. مستقبل

396
00:29:14,120 --> 00:29:16,840
  آج اس سائٹ سے گزرتے ہوےٴ، 
ہم ۴۰۰۰ سال
پرانے شہر کی دھول میں

397
00:29:17,000 --> 00:29:19,920
  سانس لے رہے ہیں۔

398
00:29:24,120 --> 00:29:26,760
ہر کوئ اس بات پر متفق ہے کہ ” قدیم وادئ سندھ“

399
00:29:26,840 --> 00:29:30,240
جنوبی ایشیا میں شہری تہذیب کی ماں ہے۔

400
00:29:30,560 --> 00:29:33,920
لیکن پاکستان کو اس ورثے کو
قبول کرنے میں کچھ وقت لگا۔

401
00:29:34,800 --> 00:29:38,040
اس ملک کے بانی نے کبھی بھی سندھ
کے کسی شہر کا دورہ نہیں کیا۔

402
00:29:38,640 --> 00:29:43,520
یہ ہیں میرے مرحوم دوست ڈاکٹر احمدحسن دانی، جو
تقسیم سے پہلے سنسکرت کے اسکالر تھے

403
00:29:43,720 --> 00:29:46,080
اور بعد میں ایک معروف ماہر ِآثارِ قدیمہ بنے۔

404
00:29:46,920 --> 00:29:50,240
ڈاکٹر دانی: آج جہاں تک
سندھ کی تہذیب کا تعلق ہے

405
00:29:50,800 --> 00:29:56,000
یہ پاکستان کے ثقافتی اور
تاریخی ورثے کا حصہ ہے۔

406
00:29:56,080 --> 00:29:57,800
اسٹیٹ بینک آف پاکستان

407
00:29:57,880 --> 00:30:03,080
پاکستان میں آج، سندھو آثارِ قدیمہ
فخر کا باعث بن چکے ہیں۔

408
00:30:04,160 --> 00:30:06,240
سندھ اور پنجاب کی حکومتیں اس کے 

409
00:30:06,320 --> 00:30:11,080
تحفظ اور کھدائی میں زیادہ سے
زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

410
00:30:11,160 --> 00:30:15,920
تیمارداری اور نگہداشت کی منظرکشی:
موہن جودڑو میں مٹی کی اینٹ

411
00:30:19,000 --> 00:30:22,080
پہلے ہمیں یہاں پاکستانی نظر نہیں
آتے تھے۔ 

412
00:30:22,720 --> 00:30:24,600
محمد الیاس:  (کھدائ مزدور)
  پاکستانی نہیں آتے تھے موہن جودڑو ۔

413
00:30:24,800 --> 00:30:26,560
زیادہ تر جاپانی،

414
00:30:26,640 --> 00:30:27,800
اور دوسرے غیر ملکی آتے تھے۔

415
00:30:29,120 --> 00:30:31,960
تو ہم کہتے تھے کہ پاکستانی کیوں نہیں آتے؟

416
00:30:32,160 --> 00:30:33,800
ان کے ليے اس کی کوئ قدر ہی نہیں تھی۔

417
00:30:33,880 --> 00:30:38,440
رفتہ رفتہ پاکستانیوں کی تعداد بڑھتی گئی،

418
00:30:38,840 --> 00:30:41,400
اب غیر ملکی کم، اور پاکستانی زیادہ آتے ہیں۔

419
00:30:43,600 --> 00:30:47,440
تقسیم کی ستم ظریفی یہ ہے
کہ سندھ کے سب سے مشہور شہر

420
00:30:47,520 --> 00:30:52,280
پاکستان میں ہیں لیکن وسائل
اور وسیع تر دلچسپی ہندوستان میں ہے۔

421
00:30:53,880 --> 00:30:56,680
ارشاد علی سولنگی: (سیاحتی رہنما)  
بہت سے ہندوستانی موہن جودڑو کا
  دورہ کرنے کے ليے بے چین ہیں۔

422
00:30:56,760 --> 00:30:58,120


423
00:30:58,320 --> 00:31:00,240
اور وہ مجھے واٹس ایپ کال کرتے ہیں۔

424
00:31:00,320 --> 00:31:02,600
اور درخواست کرتے ہیں کہ چونکہ
انہیں ویزا نہیں مل سکتا،

425
00:31:02,680 --> 00:31:04,920
 اس ليے میں موہن جودڑو کے 
ایک ویڈیو دورہ کا انتظام کردو۔

426
00:31:05,240 --> 00:31:10,440
تو میں انہیں موہن جودڑو کا ۲ گھنٹے کا 
2  ویڈیو وزٹ دے دیتا ہوں۔

427
00:31:11,200 --> 00:31:12,280
بدقسمتی سے،

428
00:31:12,480 --> 00:31:16,760
اب صرف ڈیجیٹل معلومات (بٹس اور بائٹس)  ہی 
 وہ واحد چیز یں ہیں جو اس سرحد کو آسانی سے عبور کر سکتی ہیں۔

429
00:31:16,840 --> 00:31:22,600
جس پر اتنی بھاری فوج تعنات
ہے، آپ خلا سے بھی فلڈ لائٹس دیکھ سکتے ہیں۔

430
00:31:24,320 --> 00:31:31,080
انڈو پاک بارڈر @ واہگہ/اٹاری

431
00:31:34,840 --> 00:31:36,920
  ان دو ارب لوگوں کے باوجود جو

432
00:31:37,000 --> 00:31:39,720
سندھ کی تہذیب سے اپنا براہِ راست رشتا جوڑتے ہیں،

433
00:31:40,200 --> 00:31:44,000
 اس کی تحقیق اور کھدائی ليے مالی تعاون کی شدید کمی ہے۔

434
00:31:44,120 --> 00:31:47,400
  لیکن کہیں بھی ایک بھی یونیورسٹی کا
ایسا شعبہ نہیں ہے جو 

435
00:31:47,480 --> 00:31:48,600
اس کے لئے وقف ہو۔

436
00:31:53,840 --> 00:31:57,680
جدید ہندوستانیوں کے لیے سوال
یہ ہے کہ کیا موہن جودڑو سے یہ گہرا لگاؤ وہاں 


437
00:31:57,760 --> 00:32:03,120
رہنے والے موجودہ پاکستانیوں کے ساتھ 

438
00:32:03,400 --> 00:32:05,320
بہتر تعلقات میں بدل سکتا ہے؟

439
00:32:12,160 --> 00:32:15,600
جدید پاکستانیوں کے لیے مسئلہ
یہ ہے کہ وہ ایک ایسے قدیم ماضی کو کیسے گلے لگائں

440
00:32:15,680 --> 00:32:18,960
 جو ان سرحدوں کے پار پہنچتا ہے

441
00:32:19,040 --> 00:32:25,320
جوصرف چند دہائیاں پرانی ہیں اور بڑے پیمانے
پر مسلم قومی نظریہ کے مطابق نہیں ہے۔

442
00:32:27,560 --> 00:32:29,560
لاہور، 1948

443
00:32:30,800 --> 00:32:34,760
شاید ہم قدیم سندھ تہذیب
کو ایک مثبت معنی میں ”کانسی کے دور کا ایک شاندار ستارہ“ 

444
00:32:34,960 --> 00:32:36,960
 (سپرنووا) کے طور پر سوچ سکتے ہیں،

445
00:32:37,040 --> 00:32:40,880
جس نے اپنے قیمتی عناصر کو

446
00:32:41,040 --> 00:32:44,200
پورے جنوبی ایشیا میں بکھیر دیا یا شاید، اس سے بھی کہیں آگے۔ 

447
00:32:44,520 --> 00:32:47,640
ملکہ کی تدفین میسوپوٹیمیا ~ 2500 قبل مسیح

448
00:32:48,680 --> 00:32:52,560
وادئ سندھ کے عقیق کے موتی ( کارنیلین بیڈس )
میسوپوٹیمیا میں بہت قیمتی سمجھے جاتے تھے۔ 


449
00:32:53,000 --> 00:32:58,720
درحقیقت سونے، کارنیلین اور لاجورد (لاپیس)
کا سندھو انداز پوری  دنیا میں مقبول تھا۔

450
00:33:00,520 --> 00:33:04,240
 کیش،
عراق ~2500 قبل مسیح

451
00:33:07,040 --> 00:33:12,200
قدیم وادئ سندھ کے خيالات نےبھی کتنا لمبا سفر کیا ہوگا؟

452
00:33:17,000 --> 00:33:18,600
ایک چیز جو میرے ساتھ میرے پہلے ۔

453
00:33:18,720 --> 00:33:21,920
 موہن جودڑو کے دورے  (۱۹۷۲) سےہے 

454
00:33:22,000 --> 00:33:24,000
  وہ تھی کہ یہ جگہ کتنی قدیم،    

455
00:33:24,720 --> 00:33:29,560
روایت سے کتنی جڑی ہوئ، اور پھر بھی
  دوسروں کے ليے کتنی کھلی اور 
 خیرمقدم کرنے والی محسوس ہوتی ہے۔

456
00:33:30,720 --> 00:33:33,320
شیخ جاوید علی سندھی: (سیاحتی رہنما) 
 ۱۳  سال کی عمر میں 

457
00:33:33,440 --> 00:33:35,400
ہمارے چاروں طرف بہت سے گاؤں ہیں۔

458
00:33:35,480 --> 00:33:37,960
وہاں بزرگ لوگ یہ قصہ سناتے ہیں کہ

459
00:33:38,600 --> 00:33:42,520
جب بھی کوئی شخص موہن جودڑو
کے اندر آباد ہونا چاہتا تھا،

460
00:33:42,720 --> 00:33:44,360
 تو جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پہنچتا۔

461
00:33:44,480 --> 00:33:46,480
 موہن جودڑو کے لوگ،

462
00:33:46,560 --> 00:33:49,280
ہر گھر کا مالک اسے ایک ایک اینٹ دیتا،

463
00:33:50,040 --> 00:33:52,480
کہ یہ آپ کے لیے ایک تحفہ ہے، ایک اینٹ۔

464
00:33:52,680 --> 00:33:55,200
اس طرح اس کے پاس 

465
00:33:55,280 --> 00:33:59,120
 یہاں رہنے والے مقامی
لوگوں کی طرف سےسوئيوں، ہزاروں اینٹیں جمع ہو جاتیں،

466
00:33:59,200 --> 00:34:05,280
جن سے وہ بہترین طریقے
سے اپنا گھر بنالیتا تھا۔

467
00:34:09,120 --> 00:34:11,600
اینٹوں کا اشتراک آج بھی اتنا ہی اہم ہے

468
00:34:11,960 --> 00:34:13,920
جتنا شہر میں آنے والے نئے  تارکینِ وطن کا۔ 

469
00:34:14,240 --> 00:34:16,440
بالکل اسی طرح جیسے سالماتی تجزیہ، ڈی این اے ٹیسٹنگ


470
00:34:16,640 --> 00:34:21,960
اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید اوزار تفتیش
کے بالکل نئے شعبے کھول رہے ہیں۔

471
00:34:22,520 --> 00:34:24,000
اگر مناسب طریقے سے وسائل استعمال کیا جاےٴ،

472
00:34:24,280 --> 00:34:28,320
 تو آنے والے سال تحقیق کے لیے
ناقابلِ یقین حد تک دلچسپ ہو سکتے ہیں۔

473
00:34:32,440 --> 00:34:35,800
قدیم سندھ تہذیب کی حقیقت کا 

474
00:34:36,000 --> 00:34:37,800
 پٹاراابھی ابھی کھلا ہے ۔

475
00:34:38,680 --> 00:34:42,000
یہ برِ صغیر  پاک و ہند

476
00:34:42,240 --> 00:34:44,080
اور اس سے آگے کی وسیع دنیا کی تاریخ کو
دوباره لکھ سکتا ہے۔

477
00:35:02,240 --> 00:35:06,520
مصنف/ ہدایت کار / کیمرہ : عمر خان

478
00:35:06,600 --> 00:35:10,680
شریک مصنف / تدوین کار / موشن گرافکس : رچرڈ لیوین

479
00:35:10,760 --> 00:35:14,840
تصویر کشیی : کائل آرون گولب 

480
00:35:14,920 --> 00:35:19,000
متحرك سازی / تصویری نکھار : راہول ورما 3D

481
00:35:19,080 --> 00:35:23,280
گوگل میپس اینی میشنز :  یحییٰ جاوید

